زندگی ہے فقط بندگی کے لئے

Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahore

 زندگی ہے فقط بندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے لئے
کیوں پریشان ہو زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے لئے

ہم درختوں کی صورت جھلستے۔۔۔۔۔۔۔ رہے
بن کے سایہ رہے پر سبھی ۔۔۔۔۔۔۔کے لئے

پھول بن کے کھلو دوستو۔۔۔۔۔۔۔خوش رہو
ہو کے خوشبُو رہو ہر کسی ۔۔۔۔۔۔۔۔کے لئے

دل بھی جلتا رہا جاں بھی جلتی۔۔۔۔۔۔۔۔ رہی
ہم ترستے رہے روشنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے لئے

چاند آتے رہے چاند جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے
ہم مچلتے رہے چاندنی ۔۔۔۔۔۔۔۔کے لئے

بن کے بیٹھے ہیں وہ دل کے مالک۔۔۔۔ مرے
دل دیا تھا جنھیں دل لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔کے لئے

بے کلی بن کے دل میں ۔۔۔۔۔۔وہ رہنے لگی
ہم تڑپتے رہے جس کلی ۔۔۔۔۔۔۔۔کے لئے

اِس طرف میری جانب بھی ۔۔۔۔چشمِ کرم
ساقیا کچھ تو ہومے کشی ۔۔۔۔۔۔۔۔کے لئے

خواب بن بن کے میرے ۔۔۔بکھرتے رہے
وہ سنورتے رہے پر کسی ۔۔۔۔۔۔کے لئے

لوگ کیوں بن گئے دشمنِ ۔۔جاں۔۔مرے
دوست کیا کم تھے یاں دشمنی ۔۔۔۔کے لئے

موت آئے جو قدموں میں اُن کے۔۔۔ وسیم
یہ تو معراج ہے زندگی۔۔۔۔۔۔۔۔کے لئے

Rate it:
Views: 685
17 May, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL