سب مایا ہے
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiاس دنیا میں کیا کھویا ہے کیا پایا ہے
اس جیون میں کیا ہاتھ میں اپنے آیا ہے
جب دیکھا تو یہ دیکھ کے جی گھبرایا ہے
سب مایا ہے
اس دنیا میں اک عیش کے بدلے سو ہیں غم
اک روز مسرت دل کو ہے سو روز الم
جز درد یہاں کچھ اور نہیں سرمایہ ہے
سب مایا ہے
یاں مطلب کے سب رشتے اور سب یاری ہے
اور مطلب کی یہ تیغ بڑی دو دھاری ہے
اس تیغ سے چرکا روز نیا اک کھایا ہے
سب مایا ہے
ہم ہنستے رہیں ہیں دل پہ اپنے زخم لئے
یہ کوشش کی کہ جیتے رہیں ہونٹوں کو سیئے
اور اپنے جی کو یہ کہہ کر بہلایا ہے
سب مایا ہے
دو چار برس کی بات نہیں ہے دوست مرے
اک عمر تلک ہم بستی، بن اور دشت پھرے
تب جا کے کہیں یہ گر کا نسخہ پایا ہے
سب مایا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






