لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے
Poet: رضا علی مکرم By: Razaali, Indiaگردشِ حسن میں ہر وقت سفر ہوتا ہے
میرے قبیلے کا ہر فرد قمر ہوتا ہے
چراغ عین وہ نازوں سے جسکو پالا ہو
اپنے ماں باپ کا وہ نور نظر ہوتا ہے
لہو کے دھار سے معیارِ وفا لکھ دینا
عطش کے صحرا میں عزت کی قضا لکھ دین
کیونکہ ہر وقت وفاؤں میں بسر ہوتا ہے
دیار عشق کے گوشے میں صدا جا پہنچی
قلبِ مغموم سے نکلی وہ دعا جا پہنچی
سب نے مانا کہ دعاؤں میں اثر ہوتا ہے
مجھکو تم خود میں تراشو کسی قرینے سے
صدا یہ آئیگی ہر ایک ایک نگینے سے
سمندروں کے جگر میں یہ گوہر ہوتا ہے
عشق طوفان تباہ موجوں کو ساحل کہہ دوں
شہرِ حاکم کو بھلا کیسے میں قاتل کہہ دوں
دنیا ذلت سے نہ دیکھے یہی ڈر ہوتا ہے
ہے فاصلہ کیوں میرے زیست کے تقاضے سے
سانس کیوں اٹکی ہے غربت میں ساتھ نبھانے سے
کیا مفلسی بھی امیری کا زہر ہوتا ہے
یاد محبوب میں جگنو کے دل نشیں منظر
ان سے غافل نہ ہوا چل گئے کتنے جنجر
اشک بہتے ہیں تو پھر دردِ جگر ہوتا ہے
عدوئے زیست پہ ایک بار بھروسہ کر کے
ہم بھی دیکھیں گے درِ عشق پہ سجدہ کرکے
لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے
چلیں خیالوں کی دنیا سے سر کشی کر لیں
عشقِ ایمان رضا دل کی خود خوشی کر لیں
کانچ کے گھر کو بھی پتھر سے خطر ہوتا ہے
✍️ از قلم رضا علی اعظمی
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






