سب کو تو اپنا زخم دیکھایا نہیں جاتا

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), K.S.A

ہر کسی کو میں کیوں دیکھاوں
سب کو تو اپنا زخم دیکھایا نہیں جاتا

جس سے بجھ جائے مددتوں کی پیاس میری
مجھے کیوں ایسا جام پیلایا نہیں جاتا

ہر روز خواب میں آنا تو ٹھیک ہے
لیکن مجھ سے ملنے کیوں ُاس سے آیا نہیں جاتا

کتاب تک رکھوں میں کتابوں میں پھول
اب ماضی کا بوجھ مجھ سے ُاٹھایا نہیں جاتا

برسوں سے کھول کر بیٹھی ہوں دروازہ
ان آنکھیوں کر اب کسی اور در پے لگایا نہیں جاتا

میں کچھ نہیں ہوں تمہارے لیے تو نا سہی
مجھ سے تو تمہارا اقراریں وفا بھلایا نہیں جاتا

خود ہی پڑھ لیا کرو میری شاعری کو تم
تمہیں دیکھتے ہوئے مجھ سے کچھ سنایا نہیں جاتا

یہ دل ہی تو ہے ، جو توڑ دیتے ہو بار بار
مگر مجھ سے تمہارا دل دکھایا نہیں جاتا

ہاں تم برے ہو لیکن پھر بھی اچھے لگتے ہو
کیا کروں تمہارے خلاف مجھ سے جایا نہیں جاتا

Rate it:
Views: 596
02 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL