سب کو تو اپنا زخم دیکھایا نہیں جاتا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), K.S.Aہر کسی کو میں کیوں دیکھاوں
سب کو تو اپنا زخم دیکھایا نہیں جاتا
جس سے بجھ جائے مددتوں کی پیاس میری
مجھے کیوں ایسا جام پیلایا نہیں جاتا
ہر روز خواب میں آنا تو ٹھیک ہے
لیکن مجھ سے ملنے کیوں ُاس سے آیا نہیں جاتا
کتاب تک رکھوں میں کتابوں میں پھول
اب ماضی کا بوجھ مجھ سے ُاٹھایا نہیں جاتا
برسوں سے کھول کر بیٹھی ہوں دروازہ
ان آنکھیوں کر اب کسی اور در پے لگایا نہیں جاتا
میں کچھ نہیں ہوں تمہارے لیے تو نا سہی
مجھ سے تو تمہارا اقراریں وفا بھلایا نہیں جاتا
خود ہی پڑھ لیا کرو میری شاعری کو تم
تمہیں دیکھتے ہوئے مجھ سے کچھ سنایا نہیں جاتا
یہ دل ہی تو ہے ، جو توڑ دیتے ہو بار بار
مگر مجھ سے تمہارا دل دکھایا نہیں جاتا
ہاں تم برے ہو لیکن پھر بھی اچھے لگتے ہو
کیا کروں تمہارے خلاف مجھ سے جایا نہیں جاتا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






