شاید اسی کو ُجدائی کہتے ہیں

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), K.S.A

عجیب سا موسم ہے
آج کل میرے دل کا
اچانک برسات اور
اچانک صحرا کی طرح خشک ہو جاتا ہے
جب یادوں کی بارات آتی ہے
تو دل کی وادیاں بین کرتی ہیں
سینے میں اک ایسا درد ہوتا ہے
جس سے سانس لینے میں
بہت تکلیف ہوتی ہے
گلے میں آواز
اٹک سی جاتی ہے
اک آگ جسم میں
جل سی جاتی ہے
جو چاہتے ہوئے بھی
بجھ نہیں پاتی ہے
میرے قدم قدم پر چاروں طرف
کانٹے ہی کانٹے نظر آتے ہیں
بے بس وجود میرا
پتھر سا ہوا جاتا ہے
نم آنکھیں کسی کی تلاش کرتی ہیں
نیند پھر کہاں آتی ہے ؟
جب گھڑئی کی ٹک ٹک
احساس دلاتی ہے کہ
وقت چل رہا ہے لیکن
تم میرے پاس نہیں
ہم ساتھ ہیں لیکن
پھر بھی ساتھ نہیں
شاید اسی کو ُجدائی کہتے ہیں

Rate it:
Views: 554
02 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL