ستم پہ ستم ڈھائے جارہے ہو
Poet: Maria Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbdبہت مرے خوابوں میں آئے جا رہے ہو
ستم پہ ستم ڈھائے جارہے ہو
زرہ نہیں گھبراتے زمانے کی باتوں سے
زمانے کی باتوں کو مذاق بنائے جارہے ہو
تعلق دل کا تجھ سے ہی تو بنایا ہے
تم تو جذباتوں سے گھبرائے جارہے ہو
لو کر دیا ہے اقرار زمانے کے سامنے
اب تم کیوں شرمائے جارہے ہو
نہیں جوڑنا اب خواب جو ٹوٹا ہے
حقیقت سے کیوں گھبرائے جارہے ہو
مرے ہم راز ہاں تم بن گئے ہو
عشق کا راز ہر کسی پہ بتائے جارہے ہو
پہلے قدم پہ ہاں گھبرا گئی تھی
دوسرے قدم پہ اب تم گھبرائے جارہے ہو
ملنا ہے نا مجھ سے حقیقت میں ملو
مری حقیقت کو کیوں جھٹلائے جا رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






