یہ جو چاند کے گرد ہالہ ہے
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadوہ تو میرا حوالہ ہے
جسے دل میں پالا ہے
میں کسی خواب میں پھر رہی ہوں
میرے ارد گرد اجالا ہے
دل تو نکلا جا رہا تھا پہلو سے
بڑی مشکلوں سے سنبھالا ہے
قیامت ہے کہ لوگوں کی زبانیں ڈراز ہیں
اور میرے ہونٹوں پہ تالا ہے
کیا بگاڑ سکے گا زمانہ سچائی کا
یہ زمانہ تو سارا دیکھا بھالا ہے
میری اداسیاں ہی نہ ہوں ماریہ
یہ جو چاند کے گرد ہالہ ہے
ایک طوفان تھا جینا بھی جیسے
کتنی مشکلوں سے ٹالا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






