سردارالانیاء پر پڑھیں لاکھوں سلام
Poet: ناصر دھامسکر By: Nasir Ibrahim Dhamaskar, Ratnagiriسردارالانیاء پر پڑھیں لاکھوں سلام
تاج الانبیاء کو پہنچیں لاکھوں سلام
فدا ہیں امتی آپکے بہت دل و جان سے
شافئ محشر کو پہنچیں لاکھوں سلام
شرف نیابت ملی ہمکو آپکے وسیلہ سے
تاجدار مدینہ کو پہنچیں لاکھوں سلام
ختم نبوت کے صدقہ ہوئے خیرالامم سے
خاتم الانبیاء کو پہنچیں لاکھوں سلام
دھواں نہ اٹھتا دو دو چاند بیت نبوت سے
کالی کملی والے کو پہنچیں لاکھوں سلام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






