سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
Poet: AzharM By: azharm, Dohaسلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
ہماری ہی خاطر محافظ ہمارے
یہ گھر چھوڑ اپنا محازوں پہ جائیں
شہیدوں کے والد، شہیدوں کی مائیں
بدن کے لہو سے یہ دھرتی سجائیں
سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
یہ سیسہ پلائی نہ دیوار ہوتی
تو ہم بیچ دریا، گھڑے ساتھ کچے
شہیدوں کے ساتھی، شہیدوں کے بچے
ہے احسان اُن کا، وطن دوست سچے
سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
شہیدوں نے جاں جس کی رہ میں گنوائی
وطن گر بچے گا تو کس کی بھلائی
شہیدوں کی بہنیں، شہیدوں کے بھائی
نہ آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر دہائی
سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
ذرا سوچ اظہر، تُجھے جان پیاری
شہیدوں کی خاطر کرو جو بھی کم ہے
شہیدوں کے بکھرے لہو کی قسم ہے
عدو کی نحوست بھسم ہے بھسم ہے
سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






