سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو

Poet: AzharM By: azharm, Doha

سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو

ہماری ہی خاطر محافظ ہمارے
یہ گھر چھوڑ اپنا محازوں پہ جائیں
شہیدوں کے والد، شہیدوں کی مائیں
بدن کے لہو سے یہ دھرتی سجائیں

سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو

یہ سیسہ پلائی نہ دیوار ہوتی
تو ہم بیچ دریا، گھڑے ساتھ کچے
شہیدوں کے ساتھی، شہیدوں کے بچے
ہے احسان اُن کا، وطن دوست سچے

سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو

شہیدوں نے جاں جس کی رہ میں گنوائی
وطن گر بچے گا تو کس کی بھلائی
شہیدوں کی بہنیں، شہیدوں کے بھائی
نہ آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر دہائی

سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو

ذرا سوچ اظہر، تُجھے جان پیاری
شہیدوں کی خاطر کرو جو بھی کم ہے
شہیدوں کے بکھرے لہو کی قسم ہے
عدو کی نحوست بھسم ہے بھسم ہے

سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو

Rate it:
Views: 528
23 Jun, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL