سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
Poet: AzharM By: azharm, Dohaسلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
ہماری ہی خاطر محافظ ہمارے
یہ گھر چھوڑ اپنا محازوں پہ جائیں
شہیدوں کے والد، شہیدوں کی مائیں
بدن کے لہو سے یہ دھرتی سجائیں
سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
یہ سیسہ پلائی نہ دیوار ہوتی
تو ہم بیچ دریا، گھڑے ساتھ کچے
شہیدوں کے ساتھی، شہیدوں کے بچے
ہے احسان اُن کا، وطن دوست سچے
سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
شہیدوں نے جاں جس کی رہ میں گنوائی
وطن گر بچے گا تو کس کی بھلائی
شہیدوں کی بہنیں، شہیدوں کے بھائی
نہ آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر دہائی
سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
ذرا سوچ اظہر، تُجھے جان پیاری
شہیدوں کی خاطر کرو جو بھی کم ہے
شہیدوں کے بکھرے لہو کی قسم ہے
عدو کی نحوست بھسم ہے بھسم ہے
سلام اے شہیدو، سلام اے شہیدو
زمانہ تُمہارا غلام اے شہیدو
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا






