سن کر یہ افسانہ کہیں لرز نہ جائے زمانہ
Poet: syed ishtiaq hussain kazmi By: waqas shah, RAWALPINDIسن کر یہ افسانہ کہیں لرز نہ جائے زمانہ
تنہائی بنی ہے ہم دم تیری یاد ہے آشیانہ
خدا نے میرے نصیب میں یہ کام لکھ دیا ہے
بنا کے آنکھوں میں تیری صورت رو رو کے مسکرانا
الفت کے نقش ہر چہرے پہ پڑھ رہا ہوں
لگتا ہے مسکرائے ہو محفل میں جان جاناں
مجھے ڈھونڈنا اب اتنا مشکل نہیں ہے جاناں
تیری زلفوں کا ہوں اسیری اور آنکھوں میں آشیانہ
زمانے کو اس فریب نے خاموش کر دیا ہے
تیری راہوں میں بیٹھتا ہوں غم دنیا تو ہے بہانہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






