سنو ! اے چاند سی لڑکی
Poet: Unknown By: Azam Raza, Karachiسنو ! اے چاند سی لڑکی
ابھی تم تتلیاں پکڑو
یا پھر گڑیوں سے کھیلو تم
یا پھر معصوم سی آنکھوں سے
ڈھیروں خواب دیکھو تم
فراز و فیض محسن کی
کتابیں مت ابھی پڑھنا
یہ سب لفظوں کے ساحر ہیں
تمہیں الجھا کہ رکھ دیں گے
تمہیں معلوم ہی کب ہے؟
محبت کے لبادے میں
ہوس اور حرس ہوتی ہے
یہ انسانوں کی دنیا ہے
مگر ان سے کہیں بڑہ کر
یہاں وحشی درندے ہیں
وہ وحشی جن کی آنکھوں میں
مچلتے پیار کے پیچھے
ہوس اور حرس ہوتی ہے
ابھی کچی کلی ہو تم
ابھی کانٹوں سے مت کھیلو
ابھی اپنی ہتھیلی پر
کسی کا نام مت لکھو
ابھی اپنی کتابوں میں
گلابی پھول مت رکھو
ابھی شعروں میں مت الجھو
ابھی تو عمر باقی ہے
ابھی خود کو سنبھالو تم
ابھی مت گنگناوّ تم
ابھی سے عشق مت سوچو
ابھی سب بھول جاؤ تم
سنو ! اے چاند سی لڑکی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







