عشق کی لذت
Poet: ASIM JALAL RANA By: ASIM JALAL RANA, FAISALABADجب بھی عشق کی لذت میں غزل کہتا ھوں
میں وفائے یار کی شہرت میں غزل کہتا ھوں
یہ بھی اک بہانہ ہے اسے یاد رکھنے کا
اس جان تمنا کی محبت میں غزل کہتا ھوں
وہ جو چھپ چھپ کے سنتا ہے میری باتیں
اس چاند چہرے کی حدت میں غزل کہتا ھوں
دل جذبات کا اک بازار سا لگتا ہے
میں غم عشق سے نفرت میں غزل کہتا ھوں
کیا جنوں خیزی ہے جواں رت میں
بھڑکتے احساس کی شدت میں غزل کہتاھوں
وہ جو آج تک میرا نہ ھو سکا عاصم
آج بھی اسی کی چاہت میں غزل کہتا ھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






