سنو میری محبت کی محبت

Poet: Maria Riaz Ghouri By: MARIA GHOURI, HAROONABAD

سنو میری محبت کی
محبت تم اسکا خیال
رکھنا . . . . .!

جو نا کر پائی میں
تم وہ کر جانا . . . !
کھونے نا دینا اسے اب
کی بار کسی کی زلفوں
میں

جیسا وہ کہے اس کے کہنے پہ سر جھکانا
تم اسے اپنی وفا میں
رنگ دینا . . . !

کہ پھر نا اسے یاد آئے
کوئی اسکی دیوانی
بھی ہے تم خود کا
طلسم اس پہ قائم رکھنا
سنو میری محبت کی
محبت اپنی زندگی اس
پہ تمام رکھن

محبت کی قربانی مانگتی
ہے وہ میں دوں گی
تم نا کبھی قربانی دینا. . . !

میری یک طرفہ محبت کو یک طرفہ رہنے دینا
اس کی محبت یک طرفہ مت کرنا . . . !

اسکے ساتھ وفا کرنا
میرے دل کا زخم بھر
جائے گا . . . !

کہتا ہے وہ مجھے تم
حور ہو تم سدا اپنے
حسن کی دیوی اس
کے لیے رکھنا

اس کے ساتھ وفا کرنا
میری وفا میں وہ
تمہارا ہو گیا
کچھ تو بات ہے تجھ
میں

جو مانگے وہ دل سے
دینا کمی نا اس رشتے
میں رکھنا

کہ مجھے وہ بہت عزیز
ہے تم اسقا خیال رکھنا
خدا جانے مجھے محبت
کرنی نا آئی
یا اسے میری محبت محسوس نا ہوئی

لیکن تم محبت میں مٹ
جانا اس کی خاطر خود
کو بھلا دینا سنو
میری محبت کی محبت
تم اسکا خیال رکھنا

میری ہتھیلی پہ اسکی
دعائیں رہیں گی
تم اسکے خواب سلامت
رکھنا

‏سنو میری محبت کی محبت تم اسکا خیال رکھنا
 

Rate it:
Views: 863
14 Jul, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL