سُکوں وہ لے گیا تھا ساتھ

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرت, Quetta

سُکوں وہ لے گیا تھا ساتھ، اب آرام کھو بیٹھے
یہ کِس سے پڑ گیا پالا کہ دِل سے ہاتھ دھو بیٹھے

پریشاں ڈُھونڈتے پِھرتے ہیں بچّے بُوڑھے بابا کو
اُدھر وقتوں کے قِصّوں میں ہیں گُم سُم یار دو بیٹھے

بڑوں کے فیصلوں کو ٹال کر کرتے تھے من مانی
ابھی ہم رو رہے ہیں دوستو تقدِیر کو بیٹھے

"نشِستیں تو نہیں ہوتی ہیں بزمِ یار میں مخصُوص"
کہاں اُٹھتے ہیں قُربِ یار میں اِک بار جو بیٹھے

رِہائی زلف سے محبوب کی ہم نے تو پالی تھی
نہیں تھی اُٹھ کے جانے کی ذرا بھی تاب، سو بیٹھے

کِسی نے لوٹ آنے میں ذرا سی دیر کر ڈالی
پلٹ آیا ہے وہ، ہم جس گھڑی اوروں کے ہو بیٹھے

ابھی تک یاد آتا ہے بِچھڑنے کا کوئی منظر
بہت چاہا کریں ہم ضبط، پر آنکھیں بِھگو بیٹھے

کھڑے ہم ایک مُدّت دل کے زخموں کے مداوے کو
اُٹھا ارمان کا اِک نا روا طُوفان تو بیٹھے

جہاں تک زِندگی ہے، آرزُوئیں ہیں
یہاں ہم اُٹھ گئے اے دوستو ارمان وہ بیٹھے

Rate it:
Views: 622
10 Jun, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL