سپردگی شاخِ گل کی، وحشت غزال کی ہو
Poet: Ahmed Faraz By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIسپردگی شاخِ گل کی، وحشت غزال کی ہو
جو اس طرح ہو، تو دوستی پھر کمال کی ہو
ہجومِ اہلِ طلب استادہ تھا، جب وہ گزرا
مگر کسی نے جو عرضِ غم کی مجال کی ہو
کوئی تو ایسا ہو جس پر اسکا گمان گزرے
کہیں کہیں تو مشابہت خدّ و خال کی ہو
وہ چند سانسوں کے واسطے کیوں اَنا کو بیچے
کہ عمر بھر جس نے زندگی پائمال کی ہو
ہے کون اپنی طرح کہ جس سےغمِ جہاں کے
ستم بھی جھیلے ہوں، عاشقی بھی کمال کی ہو
غزل کہی تو، لہو بدن سے نِچڑ گیا ہے
کہ جیسے صحرائے مرگ، وادی خیال کی ہو
فراز زندہ ہوں اب تلک میں تو شدّتوں سے
کہ مر نہ جاؤں، جو زندگی اعتدال کی ہو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






