سپردگی شاخِ گل کی، وحشت غزال کی ہو

Poet: Ahmed Faraz By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

سپردگی شاخِ گل کی، وحشت غزال کی ہو
جو اس طرح ہو، تو دوستی پھر کمال کی ہو

ہجومِ اہلِ طلب استادہ تھا، جب وہ گزرا
مگر کسی نے جو عرضِ غم کی مجال کی ہو

کوئی تو ایسا ہو جس پر اسکا گمان گزرے
کہیں کہیں تو مشابہت خدّ و خال کی ہو

وہ چند سانسوں کے واسطے کیوں اَنا کو بیچے
کہ عمر بھر جس نے زندگی پائمال کی ہو

ہے کون اپنی طرح کہ جس سےغمِ جہاں کے
ستم بھی جھیلے ہوں، عاشقی بھی کمال کی ہو

غزل کہی تو، لہو بدن سے نِچڑ گیا ہے
کہ جیسے صحرائے مرگ، وادی خیال کی ہو

فراز زندہ ہوں اب تلک میں تو شدّتوں سے
کہ مر نہ جاؤں، جو زندگی اعتدال کی ہو

Rate it:
Views: 511
13 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL