سیکھ رہا ہوں میں بھی انسانوں کو پڑھنے کا ہنر
Poet: فیض By: بشیر, Karachiسیکھ رہا ہوں میں بھی انسانوں کو پڑھنے کا ہنر”
“سنا ہے کتابوں سے ذیادہ چہروں پہ لکھا ہوتا ہے
کچھ لوگ کہتے تھے کہ ھر موڑ پہ یاد کریں گے آپ کو”
“…لیکن شاید انکا پورا راستہ ھی سیدھا تھا _نہ موڑ آیا نہ ھم یاد آۓ.
خیال اُنھی کے آتے ہیں جن سے دل کا رشتہ ہو”
ہر شخص اپنا ہو جائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
کچھ تلخ حقیقتیں تھی اتنی”
“کہ خواب ہی سارے ٹوٹ گئے۔۔۔۔۔
مدتوں بعد اسے خوش دیکھا تو یہ احساس ھوا
…..کہ کاش ___ میں اسے پہلے چھوڑ دیتا
!کٹ تو جاتی ہے مگر رات کی فطرت ہے عجیب
اس کو چپ چاپ جو کاٹو تو صدی بن جاتی ہے۔۔۔۔
میرے ہاتھ کی لکیروں میں یہ عیب ہے محسن”
“میں جس شخص کو چاہوں وہ میرا نہیں رہتا
زنجیروں سے بھاند کر ہمیں ”
“!…لفظوں سے مارا گیا
حیران نہیں ہوں فقط یہ دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔”
“کتنا گر رہے ہیں لوگ مجھے گرانے میں ۔۔۔۔
یہ اداس شاعری میں یونہی نہیں لکھتی”
“کے جب ٹوٹتی ہوں تو لفظوں میں بکھر جا تی ہوں
سر درد تو محض ایک نام ہے ۔۔۔۔۔”
کچھ باتیں
“دماغ کو ایسے چبتی ہیں کے ہم برداشت نہیں کر پاتے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






