شاعر سے ہو گئے ھم
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillگلشن کا جاتے جاتے دامن بھگو گئے ہم
کانٹوں بھری فضا میں شبنم پرو گئے ہم
خوابوں کی کرچیاں وہ ابتک نہ سمٹ پائیں
اس شہر مرمریں میں کچھ ایسے کھو گئے ہم
شاید انہی سے پھوٹے پھر موسم بہاراں
ویرانی خزاں میں کچھ خواب بو گئے ہم
ممکن ہے تیرے دل کی تسبیح قرار پائے
لمحوں کی جس لڑی میں دھڑکن پرو گئے ہم
جیسے ہو ننھا بچہ آغوش مادری میں
یوں اوڑھ کر خاموشی چپ چاپ سو گئے ہم
اب تم پہ منحصر ہے چاہو تو بکھر جاؤ
تیری تمام راہیں اشکوں سے دھو گئے ہم
شعلوں کا اک سمندر تھا درمیاں ہمارے
نہیں تو ملا تو کیا ہے اس پار تو گئے ہم
ہم تو تلاش میں تھے گم گشتہ جنتوں کی
تیرا ہی شہر آیا جس سمت کو گئے ہم
قابو ہی نہیں آیا اظہار کا وہ لمحہ
لفظوں کو چنتے چنتے شاعر سے ہو گئے ہم
ہونے سے ہمارے ہی ویرانیاں تھیں شاید
اب کھل کے مسکراؤ سر بزم لو گئے ہم
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






