میری آنکھوں میں تم اپنا ٹھکانہ دیکھ سکتے ہو
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillگئے ماضی کا وہ اک اک فسانہ دیکھ سکتے ہو
میری آنکھوں میں تم اپنا ٹھکانہ دیکھ سکتے ہو
تمہیں اعزاز بخشا ہے ہماری قید نے ورنہ
ڈرے کنج قفس کا لڑکھڑانا دیکھ سکتے ہو
اگر اوج محبت کا نہیں کر پاؤ اندازہ
میرا سولی پہ چڑھ کر مسکرانا دیکھ سکتے ہو
محبت کے فسانے کا خلاصہ دیکھنا گر ہو
پرندے کا جلا کر آشیانہ دیکھ سکتے ہو
اگر چاہو تو میرے خواب کو تعبیر عطا کر دو
اگر چاہو تو اس کا ٹوٹ جانا دیکھ سکتے ہو
کبھی جو زندگی کے بھید پانے کا ارادہ ہو
میرے اشکوں میں سرگرداں زمانہ دیکھ سکتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






