شام
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanشام اپنے سینے میں کیسے راز سمائے رکھتی ہے
نہ کسی کو بتائے نہ دکھائے عجب صورت حال رکھتی ہے
کتنے غم کتنی خوشیاں اس کے سامنے سے گزریں
سناٹا طاری کیے اپنے جزبات چھپائے رکھتی ہے
تاریکی کا زیور زیب تن کیے روشنی سے بیزار رہے
روشنی راز افشاں کرے تاریکی راز دار رہے
شام طاری کرے نیند غافل پر صاحب نظر کو منزل بخشے
بندے کو خدا سے روابط بخشے عجب کردار رکھتی ہے
پیار کی رومانیت اوڑھے دکھائی دے پُر مسرت سی
جزبات کی تلخیاں اپنے سینے پر سجائے غمگین مجبور سی
نہ کسی کو دکھائے نہ ہمدردی اُٹھائے مضبوط خودار سی
اپنی آنکھوں میں آنسو لیئے تاریکی اوڑھے رکھتی ہے
شام تیری رمزیں جاننے سے قاصر ہے میری سوچ
تیرا کردار عیاں ہی نہیں اس لیئے کشمکش میں ہے میری سوچ
چاند ستارے آنگن میں لیئے ہے اگرچہ تاریکی ہے زیب تن
حیدر! نہیں سمجھ پاوَ گے شام کی حقیقت ایسے خدوخال رکھتی ہے
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ







