شام کے سائے جو پیڑوں سے اُتر جاتے ہیں
Poet: سید عقیل شاہ By: syed aqeel shah, sargodhaشام کے سائے جو پیڑوں سے اُتر جاتے ہیں
ہم بھی چلتے ہوئے پھر تیرے نگر جاتے ہیں
لَوٹ کر آتے ہیں جب رات گئے ہم گھر کو
پاؤں دہلیز پہ رکھتے ہیں تو مر جاتے ہیں
بیٹھ جاتے ہیں یہیں اجنبی پیڑوں میں کہیں
یہ پرندے بھی کہاں لَوٹ کے گھر جاتے ہیں
دُور تک پھیلا ہوا حدِ نظر صحرا ہے
اِس کے رستے کسے معلوم کدھر جاتے ہیں
روز ترکیب بناتا ہوں اُسے پانے کی
روز بے کار مرے سارے ہنر جاتے ہیں
جو بھی ہو تم سے بچھڑنا ہے مگر تیرے لئے
تُو جہاں کہتا ہے چل ہم بھی اُدھر جاتے ہیں
کس قدر سہمے ہوئے لوگ ہیں اُس بستی کے
اپنا سایا بھی نظر آئے تو ڈر جاتے ہیں
سانس قائم ہے تو پھر چلتے رہو تم بھی عقیل
سوکھ جاتے ہیں وہ دریا جو ٹھہر جاتے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






