شمع پر شکوے گلے
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukفاصلے کتنے ہوں لیکن دل جدا ہوتے نہیں
دور رہنے والے اکثر بے وفا ہوتے نہیں
چھو رہی ہے دل کو میرے تیرے دل کی ہی صدا
منزلوں سے نقش پا کیوں آشنا ہوتے نہیں
موسموں میں ہجر کے بھی وصل کا آرام ہے
وصل کے لمحات یادوں سے جدا ہوتے نہیں
لمحہ ہوں سویا ہوا اک میں غبارِ وقت میں
جس سے یہ شام و سحر اب آشنا ہوتے نہیں
کب بھلا ہم نے کہا کہ ہم سے وہ غافل ہوا
شمع پر شکوے گلے بھی بے وجہ ہوتے نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







