Yadein

Poet: Mohammad Arif Anwar By: Mohammad Arif Anwar, karachi

Dill Do Tukray Ho Jata Hai Jub Yaad Kisy Ky Aty Hai
Phir Sheesha Toot Kay Girta Hai Jub Yaad Kisy Ky Aty Hai

Sadmaat Ky Lehrain Chalty Hain Or Aankhein Nam Hojaty Hain
Dill Chain Kahein Na Pata Hai Jub Yaad Kisy Ky Aty Hai

Pattay Bhee Toot Kay Girtay Hain Shjer Tanha Reh Jata Hai
Phir Khizza Ka Mausam Ata Hai Jub Yaad Kisy Ky Aty Hai

Hum Yaad Usy Ko Kartay Hain Jo Hum Ko Zakhem Lagata Hai
Dill Sadmo Say Bher Jata Hai Jub Yaad Kisy Ky Aty Hai

Voh Mujh Say Mohabbet Karta Hai Dill Mera Mujh Say Kehta Hai
Yeh Soch Kay Hum Khush Hotay Hain Jub Yaad Kisy Ky Aty Hai

Socho Kay Darya Behtay Hain Main Un Main Doobta Jata Hoon
Achanek Aankhein Khulty Hain Jub Yaad Kisy Ky Aaty Hai

Maasoom Sa Bhola Bhala Sa Voh Chehra Saamnay Ata Hai
Bechain Voh Mujh Ko Rakhta Hai Jub Yaad Kisy Ky Aty Hai

Voh Mujh Say Nazrain Millata Hai Paas Akay Door Hojata Hai
Main Dill Ko Thaam Kay Rakhta Hai Jub Yaad Kisy Ky Aty Hai

Haalaat Keo Aisay Atay Hain Or Hum Main Doory Latay Hain
Mohabbat Utny Berhty Hai Jub Yaad Kisy Ky Aaty Hai

Hum Rate Pay Gher Banatay Hain Bacho Say Khush Hojatay Hain
Gher Toot Kay Phir Gir Jata Hai Jub Yaad Kisy Ky Aaty Hai

Rate it:
Views: 1142
26 Aug, 2008
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL