شوق سے لیجئے میرا حساب۔۔۔۔ بسم اللہ
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillکھو گیا وجد میں دل بیتاب۔۔ بسم اللہ
بہکا بہکا یہ موسموں کا شباب۔۔ بسم اللہ
آج تکمیل کو پہنچی ہے لو کتاب حیات
چل ترے نام کروں انتساب۔۔ بسم اللہ
شوق کی دیدہ دلیری نے کام کر ڈالا
آج اٹھنے لگے ہیں دیکھ حجاب۔۔ بسم اللہ
ماسوا آپکے دیکھا ہی نہیں کچھ میں نے
شوق سے لیجئے میرا حساب۔۔ بسم اللہ
زنگی میں ذرا دنیا میں الجھ بیٹھا تھا
اب بتاؤ کہآں ٹوٹا تھا خواب۔۔۔ بسم اللہ
عشق نے درد کی تعریف ہی بدل ڈالی
آبلہ پا ہوئے کھلتے گلاب ۔۔۔ بسم اللہ
اے میرے پردہ نشیں آنکھ اٹھا کر دیکھو
میرے حصے میں بھی آئے ثواب۔۔۔ بسم اللہ
پوچھتے کیا ہو اب ذبیح سے مرضی اسکی
جبکہ معلوم ہیں سارے جواب۔۔۔ بسم اللہ
چشم حیران میں پھرتی ہیں حوریان فلک
آئے فردوس کو چھو کر جو خواب۔۔۔ بسم اللہ
زاہد بھائی کی فرمائش “ ہاں جی ہاں “ کے پس منظر میں
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






