شھر دے لوگ
Poet: نعمان صدیقی By: Noman Baqi Siddiqi, Karachiکج شھر دے لوگ وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی
کی زمین پر
کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے
کچھ شوق ہمیں تھا مرنے کا
کچھ تھپکی تھی کسی کی ذرا
کچھ شوق ہمیں تھا دھرنے کا
کچھ وہ کندھوں پہ اُٹھاتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا اُبھرنے کا
کچھ حکومت بھی متصادم تھی
کچھ شوق ہمیں تھا لڑنے کا
کچھ انا بھی اُن کی آڑے تھی
کچھ شوق ہمیں تھا آڑنے کا
کچھ شیخ تھے جو اُکساتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا بِھڑنے کا
کچھ سیاسی کزن کان بھرتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا بھرنے کا
کچھ ووٹ بھی ہم کو گراتے تھے
کچھ شوق ہمیں تھا گِرنے کا
کچھ عشق پہ حُسن اُکساتا تھا
کچھ شوق ہمیں تھا کرنے کا
کچھ شاعری نعمان پہ آمد تھی
کچھ شوق ہمیں تھا کرنے کا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






