شہداء کی نذر

Poet: Muhammad Saleem Qadri By: Muhammad Saleem Qadri, Karachi

بلدیہ میں ہونیوالے واقعے کی یاد

دولت کی چاہ نے میرے شہر میں اے لوگو
چھین لی جینے کی چاہ ،لوگوں سے اے لوگو
پیٹ کی آگ بجھانے کا جنہیں شوق تھا
ہو گئے سب آتش ہوس کی نذر
کسی کا باپ،کسی کی ماں اوربھائی بہن
صدا دیتے ہیں کہاں ہو آواز دو
چپ سادھ لی ہے ان تھکے وجود نے
قبر کا پیٹ وہ بھرنے کیلئے تیار ہیں
یہ زمیں والے کل تک جن پہ ہنستے تھے
آج سب گریہ ان پہ کرتے ہیں
ایک دو نہیں، درجنوں، سینکڑوں
چڑھ گئے بھینٹ اک سرمایہ دار کے
مجرم پکڑیں گے،کیفر کردار تک پہنچائیں گے
ہم کریں گے ان کی لاشوں پہ سیاست
عوام چند روز میں بھول جائیں گے
مگر وہ لوگ جن کے یہ پیارے تھے
ان کے آنسو تو اب تھم سکتے نہیں
تو نے خود کو میرے لیے مٹا ڈالا کیوں
اے خدا میں نے اتنے ناز سے اسے پالا کیوں

Rate it:
Views: 479
13 Sep, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL