ہر گھر میں سوگ ہے
Poet: purki By: m.hassan, karachi١٢ ستمبر کو جو المناک حادثہ ہوا
ایک فیکٹری میں آگ کا سنگیں واقعہ ہوا
انسانوں کی سوختہ جانوں کا تھا دھواں
پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا
ہر گھر میں سوگ اور ماتم کا تھا سماں
ہر ایک کی آنکھوں میں اشک تھا رواں
کیا خوفناک اور المناک وہ منظر تھا آگ کا
بلڈینگ کے ہر طرف سےشعلہ بھڑک رہا تھا
لاشوں کے ڈھیر پر عزیزوں کا ایک ہجوم تھا
اپنے اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں تھا
کوئی یتیم کوئی بے آسرا اور کوئی بے سہارا
تھوڑی سی دیر میں کیا کچھ نہیں ہوا تھا
ٹی وی چینل یہ منظر بار بار دکھا رہا تھا
یہ منظر دیکھ کر میرا دل بھی گھبرا رہا تھا
آخر یہ بے حسی کب تک رہے گی جاری
کچھ تو خدارا سوچو انسانیت کی بہتری
یہ پارلیمنٹ یہ اسمبلیاں کس مرض کی ہے دوا
انسانیت سسک رہی ہے کچھ ایسی چلی ہے ہوا
سب کو اپنی ہی فکر ہے اس ملک کی نہیں
سب ادارے ٹوٹ پھوٹ چکے بڑوں کو اس کی فکرنہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






