شہر جاناں
Poet: ہشام معراج By: Hashaam Meraj, Lahoreیہ میرے عشق کی مہک یونہی آوارہ نہیں
اب کہ کچھ فاصلے پر ہے تیرا شہر جاناں
یہ باغ نما صحرا یہ گلاب سے خار
کس قدر دلکش ہے تیرا شہر جاناں
رہا مسافر سفر میں اک عرصہ تک
سب شہروں سے جدا ہے تیرا شہر جاناں
نوحہ کناں ہوگی چشم بطوطا اب تلک
کہ دیکھ سکی نہ حیات میں تیرا شہر جاناں
کچھ رسائی آسان نہیں تجھ تک
کیٔ محافظوں سے لدا ہے تیرا شہر جاناں
یہ وجد ہے صرف تیرے حسن کا اس پر
کہ حسین چہروں سے اٹا ہے تیرا شہر جاناں
رات اک کوچے میں قیام کیا تو معلوم ہوا
کسی اور ہی چاند سے چمکتا ہے تیرا شہر جاناں
تجھ سے وابستہ کیے ہوئے ہے ہشام امید ٹھہراؤ کی
واقف نہیں ہے تیری وفا سے ابھی تیرا شہر جاناں
More Love / Romantic Poetry






