صبا نوید دیتی ہے اب فصل بہار کی مظہر
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian-gujratابر جو برستا ہے کسی کاجل کے سائے میں
تڑپا کہیں ہوگا کوئی مقتل کے سائے میں
تارا کوئی ٹوٹ کر پھر گرا ہوگا کہیں زمین پر
چاند کو اداس دیکھا ہے بادل کے سائے میں
خوشبو کی مانند آتے ہیں یادوں کے قافلے
ہوئے تھے عہد و پیماں صندل کے سائے میں
معتبر شہر بھر میں ہوں تیرے نام کو لے کر
سونا جیسے رکھا ہو پیتل کے سائے میں
صبا نوید دیتی ہے اب فصل بہار کی مظہر
اب یہ زیست گزرے تیرے آنچل کے سائے میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






