پیار ہے تو اسے چھپاتے کیوں ہو
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadپیار ہے تو اسے چھپاتے کیوں ہو
صبر میرا تم آزماتے کیوں ہو
نہیں دے سکتے تم محبت تو نہ سہی
پر تنہا راتوں رلاتے کیوں ہو
دعوے تو محبت کے تم بہت کرتے ہو
ملن کا کہیں تو جی چراتے کیوں ہو
مانگی تھی تصویر جو تم نہ دے سکے
جھوٹے اب بہانے بناتے کیوں ہو
یہ اک بار ہی کہہ دو کہ محبت نہیں
مجبوریاں اپنی گنواتے کیوں ہو
محبت پہ تمہاری شک نہیں ہے مگر
کر کے تم وعدہ مکر جاتے کیوں ہو
بعد محبت کے بے بس نظر آتے ہو
ہوتے ہو مجبور تو دل لگاتے کیوں ہو
محبت کرنے والوں کو دنیا سے کیا گلہ
ہوتے ہو مجبور تو دل لگاتے کیوں ہو
اثر نہیں ہوگا اس پر پھر بھی ساجد
حال دل کا ان کو بتاتے کیوں ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






