صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں
Poet: جلالؔ لکھنوی By: Rabi, Swatصبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں
ہجر کی رات وہ ہے جس کے لیے دن ہی نہیں
صبح کرنا شب غم کا کبھی ممکن ہی نہیں
آ کے دن پھیر دے اپنے وہ کوئی دن ہی نہیں
دل بے تاب محبت کو ہو کس طرح سکوں
دونوں حرفوں میں جب اس کے کوئی ساکن ہی نہیں
کیا مذمت ہے مجھے صبح شب ہجر ان سے
جن سے کہتا تھا کہ بچنا مرا ممکن ہی نہیں
شب فرقت اسے موت آ گئی میرے بدلے
دے اذاں صبح کی کون آج موذن ہی نہیں
بستر غم سے اٹھا کر یہ بٹھاتا ہے ہمیں
کوئی جز درد جگر اور معاون ہی نہیں
راہ چلتے بھی یہ پوچھیں کہ کدھر آ نکلے
جیسے ہم کوچۂ محبوب کے ساکن ہی نہیں
یاد گیسو نے دکھایا ہے وہ عالم ہم کو
رات رہتی ہے جہاں آٹھ پہر دن ہی نہیں
بندۂ عشق ہیں ایمان کی کہتے ہیں جلالؔ
ہم کو کافر جو سمجھتا ہے وہ مومن ہی نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






