صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں

Poet: جلالؔ لکھنوی By: Rabi, Swat

صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں
ہجر کی رات وہ ہے جس کے لیے دن ہی نہیں

صبح کرنا شب غم کا کبھی ممکن ہی نہیں
آ کے دن پھیر دے اپنے وہ کوئی دن ہی نہیں

دل بے تاب محبت کو ہو کس طرح سکوں
دونوں حرفوں میں جب اس کے کوئی ساکن ہی نہیں

کیا مذمت ہے مجھے صبح شب ہجر ان سے
جن سے کہتا تھا کہ بچنا مرا ممکن ہی نہیں

شب فرقت اسے موت آ گئی میرے بدلے
دے اذاں صبح کی کون آج موذن ہی نہیں

بستر غم سے اٹھا کر یہ بٹھاتا ہے ہمیں
کوئی جز درد جگر اور معاون ہی نہیں

راہ چلتے بھی یہ پوچھیں کہ کدھر آ نکلے
جیسے ہم کوچۂ محبوب کے ساکن ہی نہیں

یاد گیسو نے دکھایا ہے وہ عالم ہم کو
رات رہتی ہے جہاں آٹھ پہر دن ہی نہیں

بندۂ عشق ہیں ایمان کی کہتے ہیں جلالؔ
ہم کو کافر جو سمجھتا ہے وہ مومن ہی نہیں

Rate it:
Views: 379
21 Oct, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL