غزل ۔۔۔سدائے موسم گل
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiہزار خواب نظر میں جگا کے چلتے ہیں
ہم اپنی راہ میں منظر سجا کے چلتے ہیں
سُجھا تو دیتے ہیں یارانِ کم نگاہ کو بھی
ہرایک چال ہم اپنی ، جتا کے چلتے ہیں
حساب ہم نے کسی کا اُٹھا نہیں رکھا
یہ قرضِ جاں ہے، سو یہ بھی چُکا کے چلتے ہیں
چراغ یادوں نے ایسے جلائے ہیں دل میں
کہ جن پہ زور، نہ جادو، ہوا کے چلتے ہیں
تمام راہیں گلستاں کی بند ہوں جن پر
وہ خاک ہو کے ، جِلو میں صبا کے چلتے ہیں
یہ لوگ شیشے سے نازک تھے اپنی کایا میں
جو روز و شب کی چٹانیں اُٹھا کے چلتے ہیں
ادب کی جا، یہ مقاماتِ عشق ہیں، طارق
کہ کج کلاہ بھی یاں ، سر جھکا کے چلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






