صدائے کشمیر
Poet: Hafiz Ansar By: HafizAnsar, Shahkotکبھی سن مجاہد عام تو
رکھ کے دھرتی پہ کان تو
کہ کہاں سے آتی ہے یہ صدا
مجھ کو بچا میرے رہنما
١۔ یہ سوال تجھ سے ہے پوچھتی وادیئ کشمیر ہے
کیوں نہیں آزادی ملی مجھے کیا یہ ہی میری تقدیر ہے
کب تک رہے گا تو بتا بے خبر یونہی بےوجہ
کبھی سن مجاہد عام تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٢۔کبھی سوچ کر بھی دیکھ تو کشمیر کیوں ہے لہو لہو
کہیں تو ہی تو وہ طوفاں نہیں کرے جسکی ہے یہ جستجو
نظر اپنے دل میں بھی دوڑا ہو ضمیر اپنے سے آشناء
کبھی سن مجاہد عام تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں خاموش ہے تیری زباں،کیوں نہ باقی تجھ میں جنون ہے
میری بےکسی کو بھی دیکھ کر کیوں نہ کھولتا تیرا خون ہے
کیوں ضمیر تیرا ہے سوچکا ،کیوں نہ آئے تجھ میں نظر حیاء
کبھی سن مجاہد عام تو۔۔۔۔۔۔۔۔
کس بات کا ہے ڈر تجھے ،کس خوف سے ہے تو کانپتا
کہاں رہ تیرا وہ جنوں جو تھا تیری نظروں سے جھانکتا
کہا ں کھو گیا تیرا حوصلہ ،جو تھا تیری نظروں سے جھانکتا
کبھی سن مجاہد عام تو۔۔۔۔۔۔۔
کب تک رہوں گی نہاتی میں مظلوموں کے خون سے
کب لوں گی سانس آزاد فضاء میں آرام سے سکون سے
کب ہو گی وہ نئی صبح جب میں جیوں گی سر اٹھا
کبھی سن مجاہد عام تو رکھ کے دھرتی پہ کان تو
کہ کہاں سے آتی ہے یہ صدا،مجھ کو بچا میرے رہنما
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






