ضروی تو نہیں جتنا میں اسکو

Poet: AIK BANDA By: AIK BANDA, London

ضروی تو نہیں جتنا میں اسکو
اتنا وہ مجھ کو سو چتا تو ھو گا

پل بھر میں کیسے مان جاؤں
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا

وہ گزرا ھوا وقت
وہ صبح و شام کی قربتیں

وہ ماضی کی یادیں
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا

وہ شروع شروع کاشرمانا
اسکا میرے سامنے نہ آنا

وہ میرا حجاب سے نظریں نہ ملا نا
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا

وہ میرے بغیراداس رھنا
دیر ھونے پہ بےچین رھنا

ملنےپر مسکراھٹ پھیلنا
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا

وہ زندگی کے حادثے
وہ چھوٹی چوٹی شرارتیں

وہ بیمار ھونے پر اسکا تڑپنا
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا

وہ گھنٹوں گھنٹوں کلام نہ کرنا
کن آنکھیوں سےایک دوسرے کو دیکھنا

پھر بلا وجہ خودی مسکرا دینا
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا

اے پڑھنے والے تو کیوں حیراں ھے
یہ تو سب کی زندگی کا یکساں ساماں ھے

بار بار پڑھ کر تو بھی
وہ کچھ نہ کچھ سوچتا تو ھو گا

معذرت کے ساتھ آخری شعر میں لفظ تو کا استعمال شعر کا وزن برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ھے یہاں اس لفظ سے مراد آپ لیا جائے

Rate it:
Views: 460
08 Sep, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL