طوفانِ غم شدید تھا دِل ننھا سا دِیا
Poet: عبدالغنی By: عبدالغنی, Karachiطوفانِ غم شدید تھا ، دِل ننھا سا دِیا
جو کرنا تھا ہواؤں نے ، دِل کھول کر کیا
بنجر ترین ذات پہ ، کچھ ترس آ گیا
اُس نے مرے وُجود کو ، اَشکوں سے بھر دیا
محشر سے بھی طویل تھی ، شامِ فِراق دوست!
گویا تمہارا نام قیامت تلک لیا
جس شخص کے ، میں نام سے لا علم تھا اَبھی
گھر میں بٹھا لیا اُسے ، یہ دِل نے کیا کیا
زَخموں کا اَندمال ہیں ، دیپک نگاہ کے
شبنم پرو کے پلکوں میں ہر بار دِل سیا
اَب صُورِ حشر پھونک دے ، مورَت میں قلب کی
منصور بن کے بیٹھے ہیں ، ہم کُن سے ساقیا
نفرت کے لفظ اِتنے ہَوا میں اُڑا دِئیے
سانسوں میں زَہر بھر گیا ، بچوں نے بھی پیا
سارے گناہ گار ، مخالف فریق ہیں
قلعے میں اَپنے پھرتے ہیں ہر سمت اولیا
اِک حُسنِ پارسی جو مسیحائے لمس تھا
ماتھے پہ ہونٹ رَکھ کے ، سکھاتا تھا کیمیا
مجنوں تو جانے کتنے ہی گمنام مر گئے
برکت ہے اِسمِ لیلیٰ کی قیس آج تک جیا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






