طوفانِ غم شدید تھا دِل ننھا سا دِیا
Poet: عبدالغنی By: عبدالغنی, Karachiطوفانِ غم شدید تھا ، دِل ننھا سا دِیا
جو کرنا تھا ہواؤں نے ، دِل کھول کر کیا
بنجر ترین ذات پہ ، کچھ ترس آ گیا
اُس نے مرے وُجود کو ، اَشکوں سے بھر دیا
محشر سے بھی طویل تھی ، شامِ فِراق دوست!
گویا تمہارا نام قیامت تلک لیا
جس شخص کے ، میں نام سے لا علم تھا اَبھی
گھر میں بٹھا لیا اُسے ، یہ دِل نے کیا کیا
زَخموں کا اَندمال ہیں ، دیپک نگاہ کے
شبنم پرو کے پلکوں میں ہر بار دِل سیا
اَب صُورِ حشر پھونک دے ، مورَت میں قلب کی
منصور بن کے بیٹھے ہیں ، ہم کُن سے ساقیا
نفرت کے لفظ اِتنے ہَوا میں اُڑا دِئیے
سانسوں میں زَہر بھر گیا ، بچوں نے بھی پیا
سارے گناہ گار ، مخالف فریق ہیں
قلعے میں اَپنے پھرتے ہیں ہر سمت اولیا
اِک حُسنِ پارسی جو مسیحائے لمس تھا
ماتھے پہ ہونٹ رَکھ کے ، سکھاتا تھا کیمیا
مجنوں تو جانے کتنے ہی گمنام مر گئے
برکت ہے اِسمِ لیلیٰ کی قیس آج تک جیا
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






