عاشقانہ مزاج پایا ہے اک مرض لاعلاج پایا ہے
Poet: NADEEM MURAD By: nadeem murad, umtata RSAعاشقانہ مزاج پایا ہے
اک مرض لا علاج پایا ہے
جتنے سِمٹے ہیں فاصلے اُتنا
دوریوں نے رواج پایا ہے
رنگ اور خوشبوؤں سے دلداری
تتلیوں سا مزاج پایا ہے
تیرگی میں کرن کرن ہم لوگ
جگنوؤں سے خراج پایا ہے
عاشقی اور قرار چاہے دل
کیسا سادہ مزاج پایا ہے
وصل ممکن نظر نہیں آتا
کتنا ظالم سماج پایا ہے
روئے کچھ اسقدر کہ اشکوں نے
خون سے امتزاج پایا ہے
شعر میرے کریں چھنن چھن چھن
گھنگروؤں سا مزاج پایا ہے
ہم تغافل سے جاں بلب تھے ندیم
پر ، ستم سے علاج پایا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






