عام سی لڑکی
Poet: JAAN-E-WASHMA By: WASHMA KHAN, MOSCOWمحفل میں تنہا وہ کھڑی ھے
وہ عام سی لڑکی بڑی اچھی لگی ھے
وہ سب سے جدا انمول لگی ھے
یہ لڑکی مجھے اچھی لگی ھے
چہرے میں مسکراھٹ شرمانے لگی ھے
آنکھوں سےنظرے چھرانے لگی ھے
یہ لڑکی غضب ڈھانے لگئ ھے
یہ عام سی لڑکی مجھے اچھی لگی ھے
چپکے چپکے شرما کر دیکھنا خود ہی
ھولے ھولے چل کر ہنسنا
ھائے ایسی ادا پر میری جان نکلنے لگی ھے
یہ عام سی لڑکی مجھے اچھی لگی ھے
آنچل سے چہرہ چھپانے لگی ھے
کوئی دیکھے توں گھبرانے لگی ھے
بھکلاھٹ میں الٹے سیدھے قدم اٹھانے لگی ھے
اسی ادا پر میری جان جانے لگی ھے
ہائے یہ عام سی لڑکی مجھے ستانے لگی ھے
میرے دل کو یہ بھانے لگی ھے
محبت کی پہلی گھڑی مجھے اچھی لگی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






