عشق

Poet: UA By: UA, Lahore

عشق عبادت عشق خدا ہے عشق یہ ساری خدائی
عشق نہیں تو کچھ بھی نہیں اس دنیا میں رعنائی

عشق فلک ہے عشق ستارہ عشق ہی ارض و سما
عشق ہی کرنیں، عشق پھواریں، بادل اور برکھا

عشق ہی چاند اور سورج ہے یہ عشق زمیں آسماں
عشق نظارے، عشق بہاریں، عشق یہ سارا جہاں

عشق ہی آتش عشق سمندر عشق ہی صحرا عشق ہوا
عشق مٹا دے عشق جلا دے عشق اندھیرا عشق ضیا

عشق ہی شاہی عشق گدائی عشق ہی شاہ و گدا
عشق ہی جینا، عشق ہی مرنا ، عشق فنا و بقا

عشق ہی قسمت عشق مقدر عشق قضا کا اشارہ
عشق حقیقت عشق فسانہ عشق یہ جیون دھارا

عشق مرض ہے عشق مسیحا عشق دوا عشق شفا
عشق بھوک ہے عشق اشتہا عشق ابتدا عشق انتہا

عشق حسن ہے عشق ہنر ہے عشق زندگی عشق قضا
عشق کا امرت دعا اور دوا، عشق پیاسی روح کی غذا

عشق حذر ہے عشق سفر ہے عشق منزل کا نشاں
عشق ہی راہی ، عشق ہی رہبر، عشق ہی کارواں

عشق جنوں ہے عشق نشہ ہے عشق کرے سودائی
عشق طوفاں ہے عشق سکوں ہے عشق بڑا ہرجائی

عشق عبادت عشق خدا ہے عشق یہ ساری خدائی
عشق نہیں تو کچھ بھی نہیں اس دنیا میں رعنائی

Rate it:
Views: 609
17 May, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL