عشق

Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachi

(عشق کو مختلف زاویوں سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ امید کرتا ہوں پسند آئے گی)

عشق خاموش نگاہوں کو زباں دیتا ہے
عشق تنہائی میں محفل سا سماں دیتا ہے

عشق اک پل میں ہر روگ بھلا دیتا ہے
عشق انجام سے بیگانہ بنا دیتا ہے

عشق شاہوں کو گدائی پہ لگا سکتا ہے
عشق طاقت کا نشہ چور کرا سکتا ہے

عشق عاقل کو بھی دیوانہ بنا کر رکھہ دے
عشق انسان کو پروانہ بنا کر رکھہ دے

عشق خوابیدہ نگاہوں کو جگا سکتا ہے
عشق تسخیر ِ جہاں، پل میں کرا سکتا ہے

عشق شہباز کی پرواز اڑا سکتا ہے
عشق ظلمت میں امید بندھا سکتا ہے

عشق قسمت کے سفینے کو ڈبا سکتا ہے
عشق بگڑی ہوئی تقدیر بنا سکتا ہے

عشق سجدوں میں، قربت کو رلا سکتا ہے
عشق ہر عیب زمانے سے چھپا سکتا ہے

عشق میدان میں بے تیغ لڑا سکتا ہے
عشق کردار کی اک دھاک بٹھا سکتا ہے

عشق آتش کو بھی گلزار بنا سکتا ہے
عشق عاشق کو سر ِ دار بچا سکتا ہے

عشق چاہے تو فلک قدم بڑھاتے آئے
عشق چاہے تو زمیں اونچا اٹھاتے جائے

عشق چاہے تو رستے کو مٹا کر رکھہ دے
دید بخشے جو کہیں طور جلا کر رکھہ دے

عشق بوٹوں میں کہیں جلوہ نما ہو جائے
عشق چاہے تو خشبو کی طرح ہو جائے

عشق دل میں جو کہیں میرے پنہاں ہو جائے
چار سو دہر کا ہر راز عیاں ہوجائے

Rate it:
Views: 689
19 Oct, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL