عشق
Poet: اقتباس از خود :-) By: Mahir hayat, Karachiدشت میں اشکوں سے اک
بادل بنانا عشق ہے
یاد رہنا ۔۔۔۔، یاد کرنا
یاد آنا عشق ہے
کیف سے سرشار رہنا اور کہنا " الاحد "
زخمِ دل پر ہاتھ رکھ کر
مسکرانا عشق ہے
ہجر کی پر چھائی بھی اس آستاں سے دور ہو
ہاں ، اسے اس ہی کی خاطر
بھول جانا عشق ہے
تندئِ بادِ اذیت دشمنِ جاں ہو مگر
خاکِ ہستی میں چراغِ دل جلانا عشق ہے
اپنی آنکھوں کو ہتھیلی پر سجا کر
رات بھر
راہ گھر کی ، ننھی چڑیا
کو دکھانا عشق ہے
عین شین اور قاف ماتھے پر ابھر کر آ گیا
ہائے دل میرا، کہ یہ
پھر بھی نہ مانا ، عشق ہے
عہدِ حاضر میں گزارا ہو گیا
مشکل مرا
میں پرانا دل سے اور
مجھ سے پرانا عشق ہے
ایک لمحے کی خطا پر چشمِ شب
بیدار کا
روئے جانا، روئے جانا
روئے جانا عشق ہے
اپنے کندھوں پر مسلط
بارِ غم کے باوجود
آدمی کا ، دوسروں کے
غم اٹھانا عشق ہے
صائمِ نغمہ طراز
اک سرِ٘ الفت جان لے
میری غزلوں کا ترے
ہونٹوں تک آنا عشق ہے
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






