عشق ترے نے سپنے دکھائے ہیں
Poet: Arbab Bazmi By: Arbab Bazmi, More Eminabad GUJRANWALAعشق ترے نے سپنے دکھائے ہیں
پلکوں پہ جگنو جگمگائے ہیں
دیکھا جو تو نے پیار کی نظر سے
پھول مرے دِل کے لہلہائے ہیں
چھائے جب بھی بادل خوشیوں کے
دُکھ کے سورج نکل کے آئے ہیں
ملنے گئے جب بھی اپنوں سے ہم
راہ میں دشمن ہی ٹکرائے ہیں
اُلفت کے نہیں ہے قابل دُنیا
پیار بھرے دِل جو ٹھکرائے ہیں
عشق ہے سنگ تراش اِک ایسا جس نے
پتھر بھی تو ہیرے بنائے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






