عشق تو عشق ہے

Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeebh Hashmi, Al-khobar K.S.A

عشق تو عشق ہے
پھیلے جو عشق
سمندر کی طرح
چھائے جو عشق
آسماں کی طرح
محسوس ہو عشق
خوشبو کی طرح
چھوئیں تو عشق
پھولوں کی طرح
دیکھیں جو عشق
آنکھوں میں چمک
سوچیں جو عشق
خوابوں میں دھنک
پائیں جو عشق
ہے روپ خدا
سنیں جو عشق
ہے سرور اذاں
مانیں جو عشق
ہے نورے خدا
حقیقی جو عشق
جنت کا مزہ
ہے پاک جو عشق
فرشتوں کی طرح
عشق تو عشق ہے
الله سے عشق
انسان بنا
نبی سے عشق
قرآن بنا
ماں سے عشق
جان بنا
دولت سے عشق
طوفان بنا
زن سے عشق
زندان بنا
زر سے عشق
بے ایمان بنا
کرسی سے عشق
حیوان بنا
زمین سے عشق
پہچان بنا
دنیا سے عشق
مہمان بنا
مسجد سے عشق
سلطان بنا
جنت سے عشق
ریان بنا
عشق تو عشق ہے
عشق کرے گا الله سے
دنیا میں سب کچھ
پائے گا
عشق نہیں ہے دل
میں تیرے
خالی ہاتھ تو جائے گا
عشق تو عشق ہے
عشق عشق

Rate it:
Views: 1100
04 Jan, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL