عشق سر پر سوار ہوا چاہتا ھے

Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر , MPK

عشق سر پر سوار ہوا چاہتا ھے
جینا اور دشوار ہوا چاہتا ھے

دل کی حالت زار مت پوچھو۔
اپاہج سا لا چار ہوا چاہتا ھے۔

کوئی پرساں حال نہیں اور ۔
درد حدے بیشمار ہوا چاہتا ھے۔

خود کیے جاتا ھے خود سر ستم۔
دل مبتلائے آزار ہوا چاہتا ھے۔

کیا مصیبت ھے کہ اس کے ہوتے۔
دل تنہائی کا شکار ہوا چاہتا ھے۔

پہلے کیا کم تھیں باہم دوریان ۔
جو اور گریزاں یار ہوا چاہتا ھے؟

ھے کٹھن انتظار مگر کیا کیجیئے؟
انتظار در گر انتظار ہوا چاہتا ھے۔

یہ کس کی آمد کا منتظر ھے دل؟
ھے کون جسکا انتظار ہوا چاہتا ھے

بچوں سی ضد پراتنا اترانا کیسا؟؟
بے عقلوں میں شمار ہوا چاہتا ھے؟

کیوں نہ ہو غیر سر پریچےدل کا؟
اپنا تو بے اعتبار ہوا چاہتا ھے۔۔۔
ان سے بچھڑنا ھے عنقریب
کیا تو اے دل تیار ہوا چاھتا ھے؟

عشق کی تمہید اسد کہاں تک لکھوں؟
ہاتھ قلم سے بے زار ہوا چاہتا ھے۔

Rate it:
Views: 657
30 Nov, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL