عشق میں نام پیدا کرنے پر

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

عشق میں نام پیدا کرنے پر
ٹھہرے کافر یہ کر گزرنے پر

بحر غم کے کنارے ڈوب گئے
لاش تک نہ ملی اُبھرنے پر

تھی مسیحائی بے نیاز اُن کی
زخم بھرتے بھرا نہ بھرنے پر

ناگہانی میں مار دیجے مجھے
رحم آتا ہے اپنے مرنے پر

سٹرتا رہنے دو گورِ فرصت میں
جان جاتی ہے کام کرنے پر

چشمِ مصروف نیند لائی ہے
دفترِ خواب ِ شوق چرنے پر

وصلِ تعطیل ہے کوئے جاناں
اک زمانہ گیا ہیں دَھرنے پر

جالے پڑنے لگے بدن پہ جنیدؔ
وہ ابھی نرم ہیں سنورنے پر

جان تیری گلی کے پاگل کو
ایک پل نہ لگا سُدھرنے پر

تیرا خرموشِ غم ہوا ہلکان
کاٹنے پر بدن کُترنے پر

سبھی مصروف ہیں مرے پیچھے
بس لگائی بجھائی کرنے پر

اے شبِ ہجر ہڈ حرام ہے تُو
اِک صدی ہو گئی بسرنے پر

لگ گئی عمر دِل پہ چڑھتے جنیدؔ
نا ہوئی خرچ آن اُترنے پر

Rate it:
Views: 731
20 Dec, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL