عشق نہیں ہے اتنا آساں
Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahoreعشق نہیں ہے اتنا آساں، دیکھنے میں یہ جو لگتا ہے
جو کرے بس وہی جانے، جس آگ میں ہر دم سلگتا ہے
ہوتی ہے روز و شب یونہی، مشق مرگ و زیست کی
صبح سمیٹے خود کو جو، شام کو روز بکھرتا ہے
پل پل میں ہنستا روتا ہے، پل پل میں مرتا جیتا ہے
پل پل میں کھل کے مرجھائے، پل پل میں ٹوٹ کے سمٹتا ہے
خود کو ڈھونڈے خود میں ہی، پھر بھاگ جائے خود سے ہی
بے رحم وقت کی سولی پر، جس وقت دیکھو لٹکتا ہے
راتوں کو جگائے بے چین کرے، یہ دل لگی ہے عشق نہیں
عشق تو آگ کا دریا ہے، جو کود پڑے بس جلتا ہے
صبح کیسی ہے شام کیسی، عشق کو خبر کیا ہے رات کیسی
بس عشق سے پوچھو معشوق کی خبر، روح میں اسکی بستا ہے
ہنستے ہیں جس پر اہل زمانہ، دیکھ لیں کبھی تو پھٹ پڑیں سب
وہ منظر جب کہ بے چین ہو کر ٹوٹ کے کوئی بکھرتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






