عطا
Poet: HAMZA_BUTT By: HAMZA_BUTT, GHOURGHUSHTI,HAZROحاصل نہ کچھ میری وفاؤں کا تھا
بیقدر شاید وہ اِنتہاؤں کا تھا
چلا گیا اور کچھ کہا سنا نہیں
رابطہ جِس کے ساتھ نگاہوں کا تھا
اِنتظار کرنا، اُسے یاد کرنا چھوڑ بھی دیا مگر پھر بھی
گزارا کب اِس دل اور کب نگاہوں کا تھا
میرے دل کے ٹوٹنے کی آہٹ بھی نہ گئی اُس کے در پہ
بیکاری ہمارے دیدار ، جو ہماری چاہتوں کا تھا
نہ مرہم، نہ حوصلہ ، نہ دلاسہ ، نہ کوئی وعدہ اور
یہ اِنعام ہماری محبتوں اور رفاقتوں کا تھا
اب تو جانے تیرے بام و در کا کیا ہو گا عالم
جہاں کھلتے تھے پھو ل کیا سماں فظاؤں کا تھا
اِس غمِ بے نشان کا کروں کیا افشاں
یہ عطا اُن کی، سلسلہ اُن کی عنایتوں کا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






