یادیں
Poet: HAMZA_BUTT By: HAMZA_BUTT, GHOURGHUSHTI,HAZROپہلے سے دِن رہے نہ پہلی سی راتیں
رُوٹھ گئیں نیندیں نہ رہیں پہلی سی باتیں
گزرا ہے آج کوئی اجنبی ہو کے اس طرح
بھول گئے اُس کو و ہ لمحے وہ ملاقا تیں
بدل گیا سب کچھ اور رہ گئیں بس یادیں
کچھ دن سے جو ہو گیں اُس کو مجھ سے عداوتیں
گوشہِ دل میں جو بس جائیں بھلانا محال ہے
وہ نگاہ، وہ مسکان، وہ چہرے، وہ باتیں
اپنی ہی آہٹ سے لرزنے لگی ہوں اکژ
اِسی حالت میں بھیگ جاتیں ہیں میری آنکھیں
گر ہم نہ رہے پہلے سے تو کہاں ہیں اب
اُس میں بھی وہ پہلی سی نظر، وہ پہلی سی باتیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






