عورت کے بارے میں تمہارے خیالات کیوں ہیں ایسے
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreعورت کے بارے میں تمہارے خیالات کیوں ہیں ایسے
عورت تو وفا کی پتلی ہے ، سرا پا محبت ہے
صبر در گزر ، ایثار قربانی اس کو شیوا ہے
تم کہہ سکتے ہو ، تمہیں ہر رشتے میں عورت دیو ی کے روپ ہی میں ملی
اور مجھے دیو (جن ) کے روپ میں
میرا تجربہ تم سے مختلف ہے دوست
ہر رشتے ہی میں عورت شیطان کی خالہ نہیں
بلکہ شیطان کی نانی دادی پھوپھی تائی ہی ملی
دادی ماں پر کرتی ظلم اور ایک کی چار لگا کر میرے بابا کو بتاتی
ماں کے پاس طاقت آئی تو وہ دادی سے بڑا طوفان لے کر آئی
پھپھو ، تائی، چاچی ، ان پر تبصرہ نہ ہی کروں بس چُپ ہی رہوں تو اچھا ہے
لوگ نہ کیوں بُرا ، صرف انہی عورتوں کو کہتے ہیں
گھر کی عورت کو نہیں دیکھتے
گھر والوں کی شیطان عورتیں
جنہیں دیکھ کر شیطان کہتا ہے ، بھلا میرا یہاں کیا کام
جو جب چاہیں لے آتی ہیں طوفان
زد میں آکر اس کی ، گھر وں کے گھر ہو جاتے ہیں بر باد
کیا یہ برُی عورتیں نہیں ، دوسروں کیلئے برُ ا سوچنا اور برُا کرنا
یہی ہے دن رات بس ان کا کام
ایک عورت سارے خاندان کا سکون لوٹ لیتی ہے
اور بدنام مردوں کو کرتی ہے
کہاں سے یہ کہانیاں بناتی ہیں ، کیسے کیسے ڈرامے کرتی ہیں
میں تو ایسی عورتوں سے باز آیا
سب رشتے چھوڑ کر میں تو گھر سے نکل آیا
کبھی جنگ بلا سی ہوجاتی ہے اور جب چاہیں پانی پت کا میدان سجالیتی ہیں
چھُٹی والے دن تو عالمی جنگ ہوجاتی ہے ، اُس کی ماں آگئی بڑی پھپھو آگئی
خالہ آئیں اور نانی ساتھ آگئیں تائی آئیں تو دادی اُ ن کے پیچھے ہی آگئیں
یہ عورتیں مجھے پاگل کردیں ، اس سے پہلے ہی میں وہاں چلا آیا
کیا تمہاری زندگی میں کسی ایسی ایک عورت کا بھی گزر نہیں ہوا
اﷲ نہ کرے کہ میرا کبھی ایسی عورتوں سے واسطہ پڑے
ویسا میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ اس میں بھی قصور وار مردہی ہے
وہ یاتو عورت کو سر پر بٹھا دیتا ہے
یا اُسے پاؤں کی جوتی بنا دیتا ہے
دونوں صورتوں میں اپنے اوپر ظلم کرتاہے ، غلط ہی کرتا ہے
پاؤں کی جوتی بناکر اُس کے دل میں اپنے لیے نفرت ہی پیدا کرتا ہے
اور سر پر بٹھا کر ، اُس کی ہر بات مان کر
عورت کو خود سر اور ضدی بنا دیتا ہے ، جب مرد کا ڈر نہ ہوتو
وہ من مانی کرتی پھر تی ہے ، ظالم بن جاتی ہے
جس پر چاہے مہربان ہوتی ہے ، جسے چاہے خوار کرتی ہے
عورت کونہ سر کا تاج بنانا چاہیے ، نہ پاؤں کی جوتی
وہ پسلی سے پیدا ہوئی
اُسے درمیانے ماحول میں رکھنا چاہیے
کبھی اُس کی بات مانی چاہیے
کبھی اپنی بات عورت سے منوانی چاہیے
نہ عورت کے غلام بنو، نہ عورت کو غلام بناؤ
قصور عورت کانہیں ، مرد کا ہے
جو آزاد رہنا چاہتا ہے گھر کے ہر معاملے سے
تم گھر کی رانی ہو ، جیسے چاہو گھر پر حکمرانی کرو
گھر کے معاملات میں نہ بولوں گا ، باہر کے معاملات میں تم نہ بولنا
بس یہیں سے ساری خرابی شروع ہوتی ہے
جب عورتوں کو گھر کی رانی بناکر کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے
ہمارے گھر میں ہر عورت کو اپنی اپنی حیثیت ہے
ماں ، بہن ، بیوی ، بیٹی ، سب کو ہم اس کا صحیع مقام دیتے ہیں
اور
تمہارے خاندان میں چند عورتوں کو اعلیٰ مقام دے دیا گیا ہے
وہ جو چاہیں کرتی ہیں
جس کو چاہیں تخت پر بٹھاتی ہیں ، جِسے چاہیں اتار دیتی ہیں
خود سو ہزار میں سے ایک بہو پسند کر کے لاتی ہیں
پھر خود ہی اُس کی دُشمن ہوجاتی ہیں
ہزار برُائیاں اُس کی کرتی ہیں
تم عورت کو اتنی کھلی ، چھٹی دیتے ہی کیوں ہو
کہ جس کی جب چاہے پگڑی دے اُچھا ل
تم کہتے ہو عورت کے ٹخنے میں ہے عقل
میں تو کہتا ہو ں مرد کے تو ٹخنے میں بھی نہیں ہے عقل
جبھی تو کسی نہ کسی عورت کے اشاروں پر ناچتا ہے رہتا
کبھی اپنے دماغ سے سوچتا ہی نہیں،
کوئی فیصلہ خود کرتا ہی نہیں
پہلے ماں پھر بیوی، کبھی بہن کبھی بیٹی
کبھی کسی ، کبھی کسی کی ہاں میں ہا ں ہے ملاتا
وہ بنو عباس کی طرح
کبھی لرامکہ ، کبھی ترک سلجوق ، کھبی وہ کبھی یہ
مرد ہو خود حکومت کرو اور فیصلے بھی خود کرو
جب دوسروں کو دوگے اپنی حکومت
تو پھر وہ تو کریں گے ، تمہار ے اوپر بھی حکومت
ہر رشتے کو اس کے مقام پر رکھو
گھر کے سر براہ ہو
محبت سے انصاف سے گھر پر حکومت کرو
رائے سب کی لو اور ظلم کسی پر نہ کرو
یو ں ہر بات پر عورت کو برُا کہہ کر ، اُسے الزام دے کر
خود اپنے آپ کو پارسا نہ سمجھو
اﷲ نے مرد کو گھر کا سربراہ بنا یا ہے
پکڑ تو اﷲ کے حضور سربراہ ہی کی ہونی ہے
چاہے وہ گھر کا سربراہ ہو یا ملک کا
اﷲ نے عورت سے ایک درجہ بلند اس لیے تمہیں دیا
کہ گھر کا نظا م ٹھیک چل سکے
لیکن
تم مرد اپنی ذمہ داری عورت پر ڈال کر خود آزاد ہوگئے
عورت کو برُا کہنے کی بجائے
جاؤ گھرواپس چلے جاؤ
اچھے اور بہادر حکمران بن کر ہر سُواش کو دباؤ
عورت کے ہاتھ سے حکومت لو اور خود انصاف سے گھر پر حکومت کرو
سکون سے رہو اور پیار کی بانسری بجاؤ
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






