یہ رشتے پیارے رشتے
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreشادی کی سالگرہ ، بس تحفے کی حد تک ہے رہ گئی
سالگر ہ منانے کی تو کسی کو فرصت ہی نہیں
رات گئے آتے ہیں اور آکر سو جاتے ہیں
کہتے ہیں سالگرہ میں اب رکھا ہے کیا
تحفہ میں لے آیا ہوں بس جاؤ اور سب کو پہن کر دکھا ؤ
بڑا انوکھا مشورہ دے رہے ہیں آپ
چیز یں تو میں سارا سال ہی لیتی ہوں رہتی
اور جب ان کو پہنتی ہوں تو سب دیکھ ہی لیتے ہیں
ہمارے ابو اور امی اپنی شادی کی سالگرہ کا دن اکھٹے گھر میں گزارتے
اور تینوں وقت کا کھانا اکھٹے کھاتے
ہم سب سارا دن خوب مزہ کرتے
بچوں کے ساتھ گھر پر سالگرہ منانے کا مزہ ہے ہی کچھ اور ہمیشہ امی یہی کہتیں
لیکن
آپ میری بات سمجھتے ہی نہیں
میں تو تمہیں ہی اب تک نہیں سمجھ سکا، عجیب باتیں کرتی ہو پرانی سی
آج کل لوگ شادی کی سالگرہ باہر جاکر حسین مقام پر ہیں مناتے
بچوں کو کسی رشتے دار کے گھر چھوڑا کہ
بچے بھی اکیلے مزے کرلیں اور ہم بھی سیر سپاٹے کرلیں
بچوں کے بغیر اب تو مزہ ہی مجھے نہیں آتا
پھر گھر سے باہر جاکر انسان تھک ہے جاتا
لیکن گھر میں تھکاوٹ کا احسا س تک نہیں ہوتا
پھر جو مزہ مِل بیٹھنے میں ہے وہ اکیلے میں کہاں
بھئی مل کر بیٹھنے کا وقت ہے ہی کس کے پاس
بس جس کو جب وقت ملے ، جائے اور من پسند تفریح کرلے
پہلے تم نے اپنی سالگرہ ، میرے انتظار میں خراب کی
اب شادی کی سالگرہ ساتھ منانے کے چکر میں بر باد کر رہی ہو
خیر چلو تم ایسے کرنا ، کل اُس جگہ _______ آپ سب چلے جانا
اگر مجھے وقت مِلا تو میں بھی آجاؤں گا وہاں
نہیں آسکا اگر تو آپ سب کھانا کھا کر مزے کر کے آجانا
واہ واہ بڑا زبر دست پروگرام بنایا ہے آپ نے
اس دولت ہے ہم دُنیا کی ہر چیز ہیں لے سکتے
لیکن فرصت سے مِل بیٹھنے کے چند لمحے خرید نہیں سکتے
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






