عکسِ محسن روحِ محسن ہے کسی انسان میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارکعکسِ محسن روحِ محسن ہے کسی انسان میں
جو نظر آیا مجھے اس زیست کے زندان میں
محوِ حیرت ہوں میں اپنے آپ میں شاہد نہیں
ہے عمل تبخیر بر پا گو یا جسم و جان میں
جان محسن بن گئی میری محبت کی ردا
قید ہے ؐ محسن کہں گمنام اس دیوان میں
کر گیا مجھکو سخنور عشق محسن دیکھ لو
جانِ محسن آگئ ہے دیکھ لو میدان میں
چومتی ہے ہر صحفے کو آج وشمہ اشک تر
گویا اس کو مل گیا محسن کہیں وجدان میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






