عید کا دن ہو اور تو نہ ہو۔۔۔۔۔۔ کیسے ممکن ہے؟؟

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

عید کا دن ہو اور تو نہ ہو
گویا کہ پھول میں خوشبو نہ ہو
عشق تطہیر سے عبارت ہے
کیا عبادت اگر وضو نہ ہو
کاش وہ وقت نہ آئے مجھ پر
دل میں جب تیری آرزو نہ ہو
مندمل اک تیرے آ جانے سے
زخم جو وقت سے رفو نہ ہو
ہر وہ لمحہ میرا گناہوں میں
جبکہ تو میرے روبرو نہ ہو
آنکھ سے آنکھ ملے سوچ ذرا
اور پھر کوئی گفتگو نہ ہو
لفظ وہ سب فضول کہ جن سے
زندگی کی کہیں نمو نہ ہو
چاند لمحوں کی بھی نہیں وقعت
چاند چہرہ جو کوبکو نہ ہو
زندگی ہے تو یہ بھی لازم ہے
کیا مزہ گر کوئی عدو نہ ہو
دل تیری جس ادا پہ دھڑک اٹھا
دیکھ لینا وہ فقط خو نہ ہو
غور سے دیکھ ذرا ماتھے پر
کوئی مہتاب ہو بہو نہ ہو
سرخیاں بانٹتے لب و رخسار
اتنی بھی جان سرخرو نہ ہو
کیسے ممکن ہے چاند آئے نظر
اور رومان چار سو نہ ہو

Rate it:
Views: 1117
07 Aug, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL